رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔
جانداروں سے حاصل حلال غذائیں۔
طیّب جانداروں سے حاصل حلال غذائیں جیسے دودھ، انڈے اور شہد، اپنی اصل کے اعتبار سے پاک اور حلال ہیں۔ تاہم: اُن ہی طیّب جانداروں سے حاصل گوشت: اس وقت تک پاک اور حلال نہیں ہوتا، جب تک جانور کو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ شرعی احکام کے مطابق ذبح نہ کیا جائے۔ اگر ذبح کے دوران ان احکام کی پاسداری نہ کی گئی، تو اِن طیّب جانوروں اور پرندوں کا گوشت بھی ناپاک اور حرام قرار پاتا ہے۔
اللّٰہ فرماتا ہے کہ: زمین پر جو پاک وَطیّب پیدا کیا گیا ہے اُس میں سے کھاؤ۔ اور اللّٰہ کا شکر ادا کرو۔ ناپاک یا گندی چیزیں کھاکر شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا حقیقی دشمن ہے۔
وَاِنَّ لَـكُمۡ فِى الۡاَنۡعَامِ لَعِبۡرَةً ؕ نُسۡقِيۡكُمۡ مِّمَّا فِىۡ بُطُوۡنِهَا وَلَـكُمۡ فِيۡهَا مَنَافِعُ كَثِيۡرَةٌ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ ۙ ﴿۲۱﴾
Q-23:21اور بے شک مویشیوں میں تمہارے لیے عبرت ہے۔ ہم تمہیں ان کے شکم (کے دودھ) سے سیراب کرتے ہیں، اور ان میں تمہارے لیے بے شمار فوائد رکھے گئے ہیں، اور تم ان میں سے کھاتے ہو۔
وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّخِذِىۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعۡرِشُوۡنَۙ ﴿۶۸﴾ ثُمَّ كُلِىۡ مِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسۡلُكِىۡ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ؕ يَخۡرُجُ مِنۡۢ بُطُوۡنِهَا شَرَابٌ مُّخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُهٗ فِيۡهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً لِّقَوۡمٍ يَّتَفَكَّرُوۡنَ ﴿۶۹﴾
Q-16:68-69اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈالی کہ: "پہاڑوں، درختوں اور ان (انسانوں) کی بنائی ہوئی عمارتوں میں اپنے لیے ٹھکانے بناؤ۔" (68) "پھر ہر قسم کے پھلوں اور پھولوں سے رس چوسو اور اپنے رب کے ان راستوں پر چلو جو تمہارے لیے آسان کر دیے گئے ہیں۔" ان کے پیٹوں سے مختلف رنگوں کا ایک مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ یقیناً اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانی ہے۔ (69)
فَـكُلُوۡا مِمَّا ذُكِرَ اسۡمُ اللّٰهِ عَلَيۡهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ بِاٰيٰتِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ ﴿۱۱۸﴾
Q-06:118پس تم اُس (ذبیحہ) میں سے کھاؤ جس پر بِسمِ ﷲ کہا گیا ہو، اگر تم اُس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ وَاشۡکُرُوۡا لِلّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۱۷۲﴾
Q-02:172اے ایمان والو! اللہ کی دی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔
يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوۡا مِمَّا فِى الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَيِّبًا وَّلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِؕ اِنَّهٗ لَـكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴿۱۶۸﴾
Q-02:168اے لوگو! زمین پر جو کچھ حلال اور پاک ہے اسے کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
ذِبح / حلال کرنے کا طریقہ۔
بیشک خُدا نے اِنسان کے لِیے جانداروں میں بہت سے غِذائی فائدہ رکھیں ہیں۔ مگر مومِنوں پر فرض کِیا گیا ہے کہ: صِرف اُنہیں چوپایوں اور پرِندوں کو کھایا جا سکتا ہے، جِن کو ﷲ کا نام "بِسم ﷲ ﷲ اکبر" کہکر ذِبح کِیا گیا ہو۔
اسلام میں جانوروں کو ذبح کرنے کا طریقہ محض ایک رسم یا تقریب نہیں بلکہ ایک حکمت آمیز، صحت بخش اور معاشرتی فوائد سے مالا مال عمل ہے۔ یہ شریعت کا وہ عطیہ ہے جس میں انسانی صحت، معاشرتی توازن اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کے گہرے راز پنہاں ہیں۔
اسلامی طریقہ ذبح: " بِسم ﷲ ﷲ اکبر کہتے ہوے، حلقوم، غذائی نالی اور شہ رگ کو کاٹنا ہوتا ہے۔" اس عمل سے جانور کے جسم کا زیادہ تر خون خارج ہو جاتا ہے۔ خون میں یوریا، بیکٹیریا اور دیگر زہریلے مادے ہوتے ہیں جو گوشت کو خراب کر سکتے ہیں۔ جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ اس طریقے سے حاصل گوشت صحت کے لیے زیادہ محفوظ اور ذائقہ دار ہو جاتا ہے۔
ذبح کرتے وقت "بِسمِ ﷲ ﷲ اَکبر" پڑھنا اس بات کی علامت ہے کہ یہ عمل اللہ کے حکم سے کیا جا رہا ہے، نہ کہ خونریزی یا ظلم کے جذبے سے۔
سمندر کے جانوروں کے لیے ذبح شرط نہیں، بلکہ وہ پکڑے جانے یا مرنے سے حلال ہو جاتے ہیں۔ یعنی وہ دودھ انڈا اور شہد کی طرح اپنی اصل حالت میں حلال ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ سمندری جاندار کو جاندار نہیں بلکہ تازہ گوشت کہکر تعرف کراتا ہے۔ خشکی کے شکار کے برعکس، حالت احرام میں سمندر کا شکار کرنا اور کھانا جائز ہے۔ اس سے مزید یہ ثابت ہوتا ہے کہ! سمُندری شِکار کو ذِبح کرنے یعنی خون بہانے کی ضرورت نہیں۔
فَـكُلُوۡا مِمَّا ذُكِرَ اسۡمُ اللّٰهِ عَلَيۡهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ بِاٰيٰتِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ ﴿۱۱۸﴾
Q-06:118پس تم اُس (ذبیحہ) میں سے کھاؤ جس پر بِسمِ ﷲ کہا گیا ہو، اگر تم اُس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو۔
وَهُوَ الَّذِىۡ سَخَّرَ الۡبَحۡرَ لِتَاۡكُلُوۡا مِنۡهُ لَحۡمًا طَرِيًّا وَّتَسۡتَخۡرِجُوۡا مِنۡهُ حِلۡيَةً تَلۡبَسُوۡنَهَاۚ (۱۴)
Q-16:14اور وہی ہے جس نے سمندر کو مسخر کیا ہے تاکہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھا سکو اور اس میں سے وہ زیورات نکال سکو جنہیں تم پہنتے ہو۔
اُحِلَّ لَـكُمۡ صَيۡدُ الۡبَحۡرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ وَحُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ صَيۡدُ الۡبَـرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمًا ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿٩٦﴾
Q-05:96تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے، تمہارے لیے اور مسافروں کے لیے، فائدے کے طور پر، اور خشکی کا شکار حرام کر دیا گیا، جب تک تم احرام کی حالت میں ہو۔
پاک وَطیّب چوپاۓ، پرندے اور آبزی جانور۔
چوپاۓ: پاکیزہ اور عمدہ (طیّب) خوراک کے اصول کے مطابق، تمام نباتات خور (سبزی خور) جانور حلال ہیں۔ یعنی گھاس، بھوسا کھانے والے جانور پاک اور حلال ہیں۔
پرندے: پاکیزہ اور عمدہ (طیّب) خوراک کے اصول کے مطابق، نباتی دانا پھل اور اناج کھانے والے، اور ننّھے کیڑے مکوڑے وَدیمک کو دانوں کی طرح زمین سے چُن کر کھانے والے پرندے حلال ہیں۔ بشرطیہ کہ شکاری نہ ہوں۔
سمندری یا آبزی: حالانکہ سمندری جانور گوشت خور ہوتے ہیں۔ لیکن وہ مچھلیاں یا جانور جو شکار کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے نہیں کرتے بلکہ یوں ہی نگل جاتے ہیں۔ عام طور پر حلال ہیں۔
قُل لَّاۤ اَجِدُ فِىۡ مَاۤ اُوۡحِىَ اِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطۡعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّكُوۡنَ مَيۡتَةً اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا اَوۡ لَحۡمَ خِنۡزِيۡرٍ فَاِنَّهٗ رِجۡسٌ اَوۡ فِسۡقًا اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖۚ ﴿۱۴۵﴾
Q-06:145(اے نبی) کہو کہ جو کچھ مجھ پر وحی کی گئی ہے اس میں میں کھانے والے کے لیے کوئی چیز حرام نہیں پاتا، سوائے مردار، گرا ہوا خون، خنزیر کا گوشت، کیونکہ وہ ناپاک ہے یا اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا جانے والا جانور۔
۱۔ گھریلو مویشی حلال۔
پالتو جانوروں میں اونٹ، گائے، بھینس، بھیڑ، بکری، خرگوش اور گھوڑے—نیز گدھے یا خچر: جن کو گندگی ڈھونے کے کام میں نہ لگایا گیا ہو—عام طور پر حلال سمجھے جاتے ہیں۔
پرندوں کے باب میں کبوتر، تیتر، بٹیر، مرغی، بطخ اور ان جیسے دیگر پرندے حلال ہیں، بشرطیکہ وہ شکاری نہ ہوں۔ اگرچہ بعض پرندے چھوٹے کیڑے مثلاً چیونٹی اور دیمک وغیرہ کھا لیتے ہیں، لیکن چونکہ ان کی فطرت شکار پر مبنی نہیں ہوتی، ان کی چونچ اور پنجے شکار کو جھپٹنے یا چیر پھاڑنے کے لیے موزوں نہیں ہوتے، اور وہ عام طور پر گندگی یا مردار نہیں کھاتے، اس لیے انہیں حلال پرندوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اُحِلَّتۡ لَـكُمۡ بَهِيۡمَةُ الۡاَنۡعَامِ اِلَّا مَا یُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡؕ ﴿۱﴾
Q-05:01تمہارے لیے چوپاۓ مویشی حلال ہیں۔ سوائے اس کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔ (یعنی جو حرام لکھ دیے گۓ ہیں)
وَمِنَ الۡاَنۡعَامِ حَمُوۡلَةً وَّفَرۡشًا ؕ كُلُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ؕ اِنَّهٗ لَـكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ۙ ﴿۱۴۲﴾
Q-06:142اور چوپایوں میں سے بوجھ اُٹھانے والے (اونٹ، گاۓ، بھینس، گھوڑا وغیرہ) اور کچھ جو پھیلے ہوے ہیں (بھیڑ، بکری، مرغی، بتّخ وغیرہ) ۔ پس اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے، اس میں سے کھاؤ، اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو۔ یقیناً وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔
وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡکُمُ الۡغَمَامَ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكُمُ الۡمَنَّ وَالسَّلۡوٰىؕ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡؕ ﴿۵۷﴾
Q-02:57اور ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کیا اور تم پر 'من' اور 'سلویٰ (بٹیر)' نازل کیا: "ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں۔"
۲۔ جنگل کا شِکار حلال۔
شکاری اور گوشت خور جانوروں کے علاوہ باقی تمام جانوروں کا شکار کرنا، خصوصاً وہ جانور جو نباتات کھاتے ہیں، شکار کے لیے حلال ہیں۔ تاہم اس کے لیے شرط یہ ہے کہ شکار شدہ جانور مرنے سے پہلے شرعی طریقے پر ذبح کر لیا جائے؛ کیونکہ اگر وہ ذبح سے پہلے مر جائے تو وہ مردار شمار ہوگا، اور مردار حلال نہیں۔
اسی طرح اگر کسی درندے کے حملے سے کوئی پاک جانور زخمی ہو جائے، مگر اس کے مرنے سے پہلے اللہ کے نام پر ذبح کر لیا جاۓ، تو وہ حلال ہو جاتا ہے۔ البتہ حالتِ احرام میں خشکی کا شکار ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
اُحِلَّتۡ لَـكُمۡ بَهِيۡمَةُ الۡاَنۡعَامِ اِلَّا مَا يُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ غَيۡرَ مُحِلِّى الصَّيۡدِ وَاَنۡـتُمۡ حُرُمٌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَحۡكُمُ مَا يُرِيۡدُ ﴿۱﴾
Q-05:01تمہارے لیے مویشیوں کا شکار حلال کیا گیا ہے، سوائے ان کے جن کا تذکرہ تم سے کیا گیا ہے۔ لیکن حالت احرام میں شکار کو حلال نہ سمجھو۔ بے شک اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔
وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيۡتُم ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴿۳﴾
Q-05:03اور حرام ہے جس کو درندوں نے کھایا ہو۔ سوائے اس کے جو تم نے ذبح کر لیا ہو۔ بے شک اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
وَحُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ صَيۡدُ الۡبَـرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمًا ؕ ﴿۹۶﴾ ۔
Q-05:96اور خشکی کا شکار آپ پر اس وقت تک حرام ہے جب تک آپ حالتِ احرام میں ہیں۔
۳۔ جنگلی پرِندوں کا شِکارحلال۔
جن پاک پرندوں کا گوشت کھانا حلال ہے، ان کا شکار کرنا بھی جائز ہے، بشرطیکہ پرندہ کو مرنے سے پہلے مقررہ شرعی طریقے کے مطابق ذبح کر لیا جائے۔
اگر شکار کیا گیا پرندہ ذبح کیے جانے سے پہلے ہی مر جائے تو اسے مُردار قرار دیا جاتا ہے، اور مُردار حلال نہیں ہے۔ اسی طرح، اگر کوئی شکاری جانور یا پرندہ کسی حلال پرندے کو زخمی کر دے اور پھر اسے مرنے سے پہلے اللہ کے نام پر ذبح کر لیا جائے، تو وہ حلال ہو جاتا ہے۔
بنیادی حکم: اللہ تعالی نے تمام پاکیزہ جانور چاہے چوپائے ہوں یا پرندے حلال کیے ہیں۔ البتہ یہ بھی واضح کر دیا کہ بنی اسرائیل کی نافرمانی کی وجہ سے ان پر کچھ پاکیزہ چیزیں حرام ہو گئی تھیں۔ اس میں کچھ پنجوں والے جانور اور پرندے بھی شامل تھے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان پاکیزہ چیزوں کو امت محمدیہ کے لیے دوبارہ حلال کر دیا ہے۔
قُل لَّاۤ اَجِدُ فِىۡ مَاۤ اُوۡحِىَ اِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطۡعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّكُوۡنَ مَيۡتَةً اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا اَوۡ لَحۡمَ خِنۡزِيۡرٍ فَاِنَّهٗ رِجۡسٌ اَوۡ فِسۡقًا اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖۚ ﴿۱۴۵﴾
Q-06:145(اے نبی) کہو کہ جو کچھ مجھ پر وحی کی گئی ہے اس میں میں کھانے والے کے لیے کوئی چیز حرام نہیں پاتا، سوائے مردار، بہتا ہوا خون، خنزیر کا گوشت، کیونکہ وہ ناپاک ہے یا اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا جانے والا جانور۔
وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡکُمُ الۡغَمَامَ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكُمُ الۡمَنَّ وَالسَّلۡوٰىؕ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡؕ ﴿۵۷﴾
Q-02:57اور ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کیا اور تم پر 'من' اور 'سلویٰ (بٹیر)' نازل کیا: "ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں۔"
فَبِظُلۡمٍ مِّنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتۡ لَهُمۡ وَبِصَدِّهِمۡ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ كَثِيۡرًا ۙ ﴿۱۶۰﴾
Q-04:160پس ان یہودیوں کے ظُلم کی وجہ سے ہم نے ان پر بہت سی پاکِیزہ چیزیں حرام کیں، جو ان کے لیے حلال تھیں۔ اور اس وجہ سے کہ: وہ اللہ کے راستے سے بہت سے لوگوں کو روکتے تھے۔
وَعَلَى الَّذِيۡنَ هَادُوۡا حَرَّمۡنَا كُلَّ ذِىۡ ظُفُرٍ ۚ ﴿۱۴۶﴾
Q-06:146اور جنہوں نے یہودیت اختیار کی، ان پر ہم نے تمام پنجے والے جانور (پرِندے) حرام کر دیے تھے۔
۴۔ سمُندر کا شِکار حلال۔
سمُندر کی پاک اِقسام کی مچھلیاں حلال ہیں۔ جبکہ زہریلی اور درِندوں کے زمرہ کی مچھلِیاں اور جانور مثلاً شارک اور مگرمچھ جیسے درندے حرام ہیں۔
سمندر یا پانی میں رہنے والے جانور مچھلی کے علاوہ دوسرے آبزی جانور جیسے جھینگے، کیکڑے، کچھوے وغیرہ کے لیے علماء میں اختلاف ہے۔قران میں اللّٰہ فرماتا ہے کہ!
"تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھاناحلال کر دیا گیا، تاکہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھا سکو"
اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ یہ نہیں کہا کہ آپ کو مچھلی تو کھانی چاہیے مگر کیکڑے، جھینگے، کچھوے اور ان جیسی دیگر چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اے لوگو! زمین پر موجود پاکیزہ اور عمدہ چیزوں میں سے کھاؤ۔" لہٰذا، اگر آپ کا دل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کیکڑا، جھینگا، کچھوا اور ان جیسی دیگر چیزیں پاکیزہ ہیں، تو انہیں کھا لیں؛ ورنہ نہ کھائیں۔
وَهُوَ الَّذِىۡ سَخَّرَ الۡبَحۡرَ لِتَاۡكُلُوۡا مِنۡهُ لَحۡمًا طَرِيًّا وَّتَسۡتَخۡرِجُوۡا مِنۡهُ حِلۡيَةً تَلۡبَسُوۡنَهَاۚ (۱۴)
Q-16:14اور وہی ہے جس نے سمندر کو مسخر کیا ہے تاکہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھا سکو اور اس میں سے وہ زیورات نکال سکو جنہیں تم پہنتے ہو۔
اُحِلَّ لَـكُمۡ صَيۡدُ الۡبَحۡرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ وَحُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ صَيۡدُ الۡبَـرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمًا ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿٩٦﴾
Q-05:96تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے، تمہارے لیے اور مسافروں کے لیے، فائدے کے طور پر، اور خشکی کا شکار حرام کر دیا گیا، جب تک تم احرام کی حالت میں ہو۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ وَاشۡکُرُوۡا لِلّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۱۷۲﴾
Q-02:172اے ایمان والو! اللہ نے جو پاکیزہ رزق تمہیں دیا ہے، اس میں سے کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔
۵۔ تربِیت یافتہ جانور کے ساتھ شکار۔
کُچھ شِکاری جانور جیسے کُتّا، باز اور شاہین کو اِنسان پالکر اپنا غُلام بنا لیتا ہے۔ اگر اُن کو خُدا کی بتائی شریعت کے مُطابِق تربِیت دی جاۓ۔ مثلاً
وہ شِکار مالِک کے حُکم پر پکڑیں۔ نہ کہ خود کی بھوک مِٹانے کے لِیے۔
شِکار کو چیر پھاڑ نہ دیں۔ یعنی شِکار پر ظلم کر مار نہ ڈالیں۔
شِکار کو مرنے سے پہلے ﷲ کے نام "بِسم ﷲ ﷲ اکبر" کہہ کر ذِبح کر لِیا جاۓ۔
اگر شکار آبزی ہے تو وہ مرنے پر بھی حلال ہے۔
اِن شرائط کے ساتھ جانوروں کا لایا شِکار حلال ہے۔
يَسۡـَٔـــلُوۡنَكَ مَاذَاۤ اُحِلَّ لَهُمۡؕ قُلۡ اُحِلَّ لَـكُمُ الطَّيِّبٰتُ ۙ وَمَا عَلَّمۡتُمۡ مِّنَ الۡجَـوَارِحِ مُكَلِّبِيۡنَ تُعَلِّمُوۡنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ فَكُلُوۡا مِمَّاۤ اَمۡسَكۡنَ عَلَيۡكُمۡ وَاذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ عَلَيۡهِ ؗ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۴﴾
Q-05:04وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں اور وہ چیزیں بھی حلال ہیں جو تمہارے تربیت یافتہ شکاری جانور لاتے ہیں جن کی تم نے تربیت کی ہے جیسا کہ اللہ نے تمہاری تربیت کی ہے۔ پس جو کچھ وہ تمہارے لیے پکڑیں اسے کھاؤ اور (ذِبح کے وقت) اس پر اللہ کا نام لیا کرو اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
حلال کھانے میں عیب گوئی۔
خُدا فرماتا ہے کہ جِس جانور پر ذِبح کرتے وقت خُدا کا نام پڑھا گیا ہو، وہ حلال ہے۔ خواہ وہ جانور بوجھا اُٹھانے والا بڑا جانور ہو یا پِھر زمین سے لگا ہوا چھوٹا جانور ہو۔ پس خُدا کے فضل میں عیب گوئی نہ کرو۔ کیونکہ خدا کی ناشکری شیطان کا راستہ ہے۔
کئی بار دیکھنے میں آتا ہے کہ: کم قیمت پر دستیاب ہونے والے گوشت کو تکبُّری لوگ حِکارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ خدا تمام مومِنوں کو حلال رِزق کی توہین سے بچاۓ۔ آمین۔
وَمَا لَکُمۡ اَلَّا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ وَقَدۡ فَصَّلَ لَکُمۡ مَّا حَرَّمَ عَلَیۡکُمۡ اِلَّا مَا اضۡطُرِرۡتُمۡ اِلَیۡہِؕ وَاِنَّ کَثِیۡرًا لَّیُضِلُّوۡنَ بِاَہۡوَآئِہِمۡ بِغَیۡرِ عِلۡمٍؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾
Q-06:119اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اس چیز میں سے نہیں کھاتے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حالانکہ اس نے تم پر وہ چیزیں واضح کر دی ہیں جن سے اس نے تمہیں منع کیا ہے، مگر یہ کہ تم اس پر مجبور ہو جاؤ۔ اور بے شک بہت سے لوگ اپنی خواہشات کے پیچھے بغیر علم کے (لوگوں کو) گمراہ کرتے ہیں۔ تمہارا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔
وَمِنَ الۡاَنۡعَامِ حَمُوۡلَةً وَّفَرۡشًا ؕ كُلُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ؕ اِنَّهٗ لَـكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ۙ ﴿۱۴۲﴾
Q-06:142اور چوپایوں میں سے بوجھ اُٹھانے والے (اونٹ، گاۓ، بھینس، گھوڑا وغیرہ) اور کچھ جو پھیلے ہوے ہیں (بھیڑ، بکری، مرغی، بتّخ وغیرہ) ۔ پس اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے، اس میں سے کھاؤ، اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو۔ یقیناً وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔
**********